⚖️

 

‎*✨🇵🇰🇸🇦🇷🇺🇺🇳*

‎*نَفَاذُ الشَّرِيعَةِ فِي بَاكِسْتَانَ عَلَى الطِّرَازِ السُّعُودِيِّ*

‎*الأُخْتُ المُؤَسِّسَةُ وَالرَّاعِيَةُ: كَوْكَبُ عَنْبَرِين مَلِك بَشِير*

‎------------------------------

‎## 1️⃣ کیا ہم شریعت سے گھبراتے ہیں، یا ہم نے شریعت کو صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں؟

‎لفظ "شریعت" سنتے ہی ہمارے روایتی معاشرے میں سب سے پہلے سخت سزاؤں، پابندیوں اور خوف کا تاثر ابھرتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم شریعت سے گھبراتے نہیں ہیں، بلکہ ہم نے شریعت کو صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں ہے۔ شریعت کسی خوف یا جبر کا نام نہیں، بلکہ یہ خالقِ کائنات کا انسانوں کے لیے دیا گیا ایک ایسا خوبصورت ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں توازن پیدا کرتا ہے۔ خوف وہاں ہوتا ہے جہاں لاعلمی ہو؛ جب ہم شریعت کی حقیقی روح یعنی عدل، محبت، اور انسانیت کے تحفظ کا مطالعہ کریں گے، تو خوف محبت اور اطمینان میں بدل جائے گا۔

‎## 2️⃣ شریعت میں عدل اور عوام کے حقوق کیا ہیں؟

‎شریعت کا بنیادی ستون "عدل و انصاف" ہے۔ اسلامی نظامِ عدل میں کسی امیر کو غریب پر، اور کسی طاقتور کو کمزور پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ شریعت عوام کو وہ بنیادی حقوق فراہم کرتی ہے جن کی ضمانت دنیا کا کوئی جدید ترین جمہوری نظام بھی نہیں دے سکتا۔ ایک عام شہری کی جان، مال، آبرو، اور عقیدے کا تحفظ شریعت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس نظام میں ریاست ہر شہری کی بنیادی ضروریاتِ زندگی (روٹی، کپڑا، مکان، صحت، اور تعلیم) کی فراہمی کے لیے جوابدہ ہوتی ہے۔ شریعت میں حقوق العباد (عوام کے حقوق) کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ ان کی پامالی پر سخت ترین وعیدیں موجود ہیں۔

‎## 3️⃣ پاکستان میں شریعت کے بارے میں عوام کو مکمل تعلیم کیوں نہیں دی جاتی؟

‎پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نصاب میں دنیا بھر کے فلسفے اور قوانین تو پڑھائے جاتے ہیں، مگر شریعت کے جامع نظامِ زندگی پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ عوام کو شریعت کی مکمل اور درست تعلیم نہ دینے کی وجہ سے معاشرے میں غلط فہمیاں اور انتہا پسندی نے جنم لیا۔ شریعت کو صرف چند عبادات یا مخصوص سزاؤں تک محدود کر کے پیش کیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے نصاب میں شریعت کے معاشی، عدالتی، اور سماجی قوانین کو شامل کیا جائے تاکہ ہماری نوجوان نسل ایک مکمل اسلامی فلاحی نظام کے خدوخال سے واقف ہو سکے۔

‎## 4️⃣ کیا نفاذِ شریعت آئینی اور پُرامن طریقے سے ممکن ہے؟

‎بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شریعت کا نفاذ صرف کسی مسلح تصادم، انقلاب، یا معاشرتی افراتفری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ پاکستان کا آئین دنیا کے بہترین دساتیر میں سے ایک ہے، جس کی قراردادِ مقاصد اور بنیادی دفعات واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کرتی ہیں کہ ملک کا اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور یہاں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کسی قسم کے تصادم کی ضرورت نہیں؛ ہم آئینی، قانونی، اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے، پارلیمنٹ کے راستے سے، ملک میں شریعت کا مکمل نفاذ کر سکتے ہیں۔

‎## 5️⃣ شریعت اور معاشرتی فلاح کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

‎شریعت کا ایک بڑا حصہ سوشل ویلفیئر (معاشرتی فلاح) سے عبارت ہے۔ اسلام صرف مسجد کی حد تک محدود رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا نظامِ معیشت و معاشرت دیتا ہے جہاں کوئی بھوکا نہ سوئے۔ زکوٰۃ، عشر، صدقات، اور وقف کا پورا نظام اسی لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ دولت صرف چند امیروں کے ہاتھوں میں گردش نہ کرتی رہے، بلکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات تک پہنچے۔ یتیموں کی کفالت، بیواؤں کی سرپرستی، معذوروں کے حقوق، اور مسافروں کی دیکھ بھال شریعت کے بنیادی احکامات میں شامل ہیں، جو ایک مثالی فلاحی معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔

‎## 6️⃣ شریعت میں خواتین کے حقوق کیا ہیں؟

‎مغربی دنیا نے خواتین کو حقوق دینے کا دعویٰ بیسویں صدی میں کیا، جبکہ اسلام نے 1400 سال پہلے عورت کو وہ تمام حقوق دے دیے تھے جن کی وہ حقدار تھی۔ شریعت نے عورت کو وراثت کا حقدار بنایا، اسے اپنی مال و جائیداد کی مالکہ قرار دیا، پسند کی شادی کا حق دیا، اور تعلیم حاصل کرنا مرد کی طرح اس پر بھی فرض کیا۔ شریعت عورت پر معاشی بوجھ نہیں ڈالتی؛ شادی سے پہلے اس کا نفقہ باپ یا بھائی کے ذمہ ہے اور شادی کے بعد شوہر کے ذمہ۔ اسلام نے ماں، بہن، بیٹی، اور بیوی—ہر روپ میں عورت کو تقدس، عزت، اور معاشرے میں ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔

‎## 7️⃣ شریعت کے نظامِ عدل میں حکمران کی ذمہ داری کیا ہے؟

‎شریعت کے نظام میں حکمرانی کوئی اعزاز یا بادشاہت نہیں، بلکہ ایک انتہائی سنگین امانت اور ذمہ داری ہے۔ شریعت میں قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، جہاں ایک عام شہری وقت کے خلیفہ یا ملک کے صدر کو بھی عدالت میں لا کر سوال کر سکتا ہے، جیسا کہ تاریخِ اسلام میں حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علیؓ کے ادوار میں دیکھا گیا۔ حکمران شریعت کے دائرے سے باہر نہیں ہوتا، بلکہ وہ قانون کا سب سے پہلا پابند ہوتا ہے۔ اگر کوئی حکمران عوام کے حقوق ادا نہیں کرتا یا انصاف قائم نہیں کرتا، تو وہ اللہ اور عوام دونوں کے سامنے مجرم ٹھہرتا ہے۔

‎## 8️⃣ کیا شریعت کا مقصد صرف سزائیں ہیں، یا عدل و رحمت بھی؟

‎ہمارے ہاں جب بھی شریعت کا تذکرہ ہوتا ہے، تو صرف حدود اور تعزیرات (سزاؤں) پر بات کی جاتی ہے، جس سے ایک منفی تاثر ابھرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعت کا اصل مقصد سزائیں دینا نہیں، بلکہ معاشرے کو جرائم سے پاک کر کے ایک امن اور رحمت کا گہوارہ بنانا ہے۔ شریعت میں حد نافذ کرنے سے پہلے چوری یا جرم کی وجوہات کا خاتمہ کیا جاتا ہے؛ یعنی پہلے بھوک مٹائی جاتی ہے، روزگار دیا جاتا ہے، اور عدل قائم کیا جاتا ہے۔ ہمارے نبی کریمﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا، اور شریعت اسی رحمتِ الٰہی کا ایک عملی، قانونی اور خوبصورت روپ ہے۔

‎------------------------------

‎

Comments

Popular posts from this blog

> ✨🇵🇰🇸🇦🇷🇺🇺🇳 > نَفَاذُ الشَّرِيعَةِ فِي بَاكِسْتَانَ عَلَى الطِّرَازِ السُّعُودِيِّ > الأُخْتُ المُؤَسِّسَةُ وَالرَّاعِيَةُ: كَوْكَبُ عَنْبَرِين مَلِك بَشِير

> ✨🇵🇰🇸🇦🇷🇺🇺🇳 > نَفَاذُ الشَّرِيعَةِ فِي بَاكِسْتَانَ عَلَى الطِّرَازِ السُّعُودِيِّ > الأُخْتُ المُؤَسِّسَةُ وَالرَّاعِيَةُ: كَوْكَبُ عَنْبَرِين مَلِك بَشِير

🌐